نئی دہلی، 10 نومبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سپریم کورٹ نے ججوں کے نام پر رشوت لینے کے الزامات کو انتہائی سنگین بتایا اور زور دیا کہ کسی کو بھی انصاف کی پاکیزگی کو ناپاک کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔عدالت نے کہا وہ جو بھی ہوں، کتنے بھی طاقتور ہوں، قانون سے نہیں بچ سکتے ہیں اور انصاف اپنے تقاضوں کو پورا کرکے رہے گا ۔جسٹس اے کے سیکری اور اشوک بھوشن کی بنچ نے کہا کہ کوئی بھی اس معاملے کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا کیونکہ الزام انتہائی سنگین ہیں اور ان پر غور کرنے کی ضرورت بھی ہے۔بنچ نے کہا کہ سی بی آئی نے چھاپے مارے ہیں اور مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ کوئی بھی اس معاملے کی اہمیت کو کم نہیں کر سکتا یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی انصاف کی پاکیزگی کو ناپاک نہ کرے. وہ جو بھی ہو، کتنا بھی طاقتور ہو، قانون سے نہیں بچ سکتا بہر حال انصاف اپنے تقاضوں کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے ۔درخواست گزار غیر سرکاری تنظیم مہم فار جوڈیشیل کی طرف سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن سے بنچ نے کہا کہ جس طرح سے معاملے کو اس کے سامنے درج کیا گیا وہ تکلیف دہ ہے۔جسٹس سیکری نے کہا کہ جب آٹھ نومبر کو اس معاملے کا ذکر ہو چکا تھا اور اسے آئینی بنچ کے سامنے درج کرنے کی ہدایت دی جا چکی تھی تب عدالت نمبر 2 میں کل دوسری درخواست پیش کرنے کی کیاضرورت تھی ۔آپ مجھے بتا سکتے تھے اور اگر ممکن ہوتا تو میں اس سے خود کو الگ کر لیتا۔ آپ مجھے جانتے ہیں۔ بھوشن نے کہا کہ انہیں مزیددکھ ہوا کیونکہ آٹھ نومبر کو رجسٹری نے انہیں مطلع کیا تھا کہ جس معاملے کو عدالت نمبر 2 میں درج کرنے کی ہدایت دی گئی تھی اسے ایک دوسری پیٹھ کے حوالے کر دیا گیا ہے کیونکہ چیف جسٹس نے اس بابت پہلے ہی حکم دیا تھا۔بنچ نے کہا کہ چیف جسٹس یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کے بنچ کے سامنے کوئی معاملہ درج کیا جائے گا۔